بِسْمِ ٱللَّـهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

خدا کے نام سے، طاقتور، رحم کرنے والے۔

الٓر تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿١﴾

1 الٓر ، وہ ہیں نشانیاں کھلی کتاب کی،

إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٢﴾

2 ہم نے بھیجا ہے اسے ایک عربی پڑھنے والی چیز ،تاکہ تم شاید سمجھو،

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ ﴿٣﴾

3 ہم تمہیں بتاتے ہیں بہترین قصہ اس قرآن میں جو ہم نے تمہیں وحی کیا ہے، اور تم اس سے پہلے لاپرواہوں میں سے تھے،

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ﴿٤﴾

4 جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے:اے میرے ابو، میں نے دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو، میں نے دیکھا انہیں میری طرف جھکے ہوئے،

قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٥﴾

5 اس نے کہا: اے میرے بیٹے، نہیں بتانا اپنا خواب اپنے بھائیوں کو، تو وہ چال چلیں گے تمہارے خلاف، شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے،

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٦﴾

6 اور اسی طرح تمہیں چناہے تمہارے رب نے، اور وہ تمہیں سکھائیں گے واقعات کا انجام، اور وہ پورا کریں گے اپنا احسان تم پر، اور یعقوب کے گھر والوں پر، جیسے انہوں نے پوری کی تمہارے باپ دادا پر پہلے، ابراہیم اور اسحاق، تمہارے رب جاننے والے، حکمت والے ہیں،

لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَـٰتٌ لِّلسَّآئِلِينَ ﴿٧﴾

7 یوسف اور اس کے بھائیوں میں نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے،

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٨﴾

8 جب انہوں نے کہا: یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارے ہیں ہمارے ابو کو ہم سے، اور ہم ایک گروہ ہیں، ہمارے ابو کھلی گمراہی میں ہیں،

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَـٰلِحِينَ ﴿٩﴾

9 قتل کر دو یوسف کو یا ڈال دو اسے کسی زمین پر، تمہارے ابو کا چہرہ تمہارے لیے خالی ہو جائے گا، اور تم اس کے بعد اچھا کرنے والے لوگ ہو جانا۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ ﴿١٠﴾

10 کہا ایک بولنے والے نے ان میں سے: نہیں قتل کرو یوسف کو، اور پھینک دو اسے کسی کنویں کی گہرائی میں، اسے اٹھا لیں گے کوئی مسافر، اگر تم ایسا کرتے ہو۔

قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ ﴿١١﴾

11 انہوں نے کہا: اے ہمارے ابو، آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے؟ اور ہم اس کے خیر خواہ ہیں،

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ﴿١٢﴾

12 بھیج دیں کل اسے ہمارے ساتھ،وہ تفریح کرے گا اور کھیلے گا، اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَـٰفِلُونَ ﴿١٣﴾

13 کہا اس نے: مجھے غم دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے گا، اور تم اس سے لاپرواہ ہو گے۔

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًا لَّخَـٰسِرُونَ ﴿١٤﴾

14 انہوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے، اور ہم ایک گروہ ہیں، تو ہم ہارنے والوں میں ہوں گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿١٥﴾

15 تو جب وہ اس کے ساتھ چلے گئے، اور جمع ہوۓ اسے کنویں کے اندھیرے میں ڈالنے کے لیے، اور ہم نے وحی کی اسے: تم انہیں بتاؤ گے اس معاملے کے بارے میں اور انہیں شعور نہیں ہو گا،

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ ﴿١٦﴾

16 اور وہ آئے اپنے باپ کے پاس رات کو روتے ہوئے،

قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـٰدِقِينَ ﴿١٧﴾

17 انہوں نے کہا: اے ہمارے ابو، ہم گئےتھے دوڑنے کے لیے، اور ہم نے چھوڑا تھا یوسف کو اپنے سامان کے ساتھ، تو اسے بھیڑیا کھا گیا، اور آپ ہمارا یقین نہیں کریں گے، اور جبکہ ہم سچے ہیں۔

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَٱللَّـهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ﴿١٨﴾

18 اور وہ لے کر آئے اس کی قمیص جس پر جھوٹا خون لگا تھا، کہا اس نے: بلکہ تمہارے جانوں نے تمہیں ایک معاملے پر آمادہ کیا، تو صبر اچھا ہے، اور خدا ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اس کے خلاف جو تم بیان کررہے ہو۔

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةً وَٱللَّـهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ﴿١٩﴾

19 اور آئے مسافر، تو بھیجا انہوں نے اپنے پانی بھرنے والے کو، تو اس نے اپنی بالٹی نیچے ڈالی، اس نے کہا: خوشخبری، یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے چھپا لیا اسے مالِ تجارت کے طور پر، اور خدا جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے،

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ﴿٢٠﴾

20 اور انہوں نے اس کا سودا کیا کم قیمت پر، کچھ درہم، اور وہ اس کے بارے میں سستے دام لگانے والوں میں سے تھے،

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَٱللَّـهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢١﴾

21 اور کہا اس نے جس نے خریدا تھا اسے مصر میں اپنی بیوی سے: اس کے ٹھکانے کو عزت دو، ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے قائم کیا یوسف کو زمین میں، اور تاکہ ہم اسے سکھائیں واقعات کے انجام سے، اور خدا اپنے معاملے پر غالب ہوتاہے لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے،

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿٢٢﴾

22 ور جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچ گیا، ہم نے اسے حکمت اور علم دیا، اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اچھا کرنے والوں کو،

وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّـهِ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٢٣﴾

23 اور اس نے اسے پھسلانےچاہا جس کے گھر میں وہ تھا، اس کی جان سے، اور اس نے دروازوں کو بند کردیا، کہا: آ جاؤ۔ اس نے کہا: خدا کی پناہ، وہ میرا رب ہے جس نے اچھا کیا ہے میرا ٹھکانا، غلط کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ ﴿٢٤﴾

24 اور ارادہ کیا اس نے اس کا، اور ارادہ کیا اس نے اس کا، اگر یہ نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے رب کا ثبوت دیکھا، اسی طرح ہم نے اس سے بڑائی اورفحاشی کو پھیر دیا، وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا،

وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٥﴾

25 اور دوڑے وہ دونوں دروازے کی طرف، اور اس نے پھاڑ دی قمیض اس کی پیچھے سے، اور انہوں نے پایا اس کے سردار کو دروازے پر، اس نے کہا: کیا بدلہ ہے اس کا جو آ پ کے گھر والوں کے ساتھ برائی چاہے، سوائے یہ کہ اسے قید کیا جائے یا تکلیف والی سزا؟

قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ﴿٢٦﴾

26 کہا اس نے: یہ تھی جس نے مجھے میری جان سے پھسلانا چاہا، اور گواہی دی ایک گواہ نے اس کے گھر والوں میں سے: اگر اس کی قمیض سامنے سے پھٹی ہوئی ہے، تو وہ سچ بولی اور وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے،

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ﴿٢٧﴾

27 اور اگر اس کی قمیض پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے ، تو وہ جھوٹ بولی اور وہ سچوں میں سے ہے۔

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ ﴿٢٨﴾

28 تو جب اس نے دیکھا اس کی قمیض کو پیچھے سے پھٹے ہوۓ، اس نے کہا: یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے ہے، اور تم عورتوں کی چال بہت بڑی ہے،

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ ﴿٢٩﴾

29 یوسف منہ موڑ لیں اس سے، اور تم، معافی مانگو اپنے گناہ کے لیے، تم خطا کرنے والیوں میں سے ہو،

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٣٠﴾

30 اور شہر کی عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان کو اس کی جان سے پھسلانا چاہ رہی ہے، اس نے اسے گہری محبت میں گرفتارکر لیا ہے، ہم اسے دیکھتے ہیں کھلی گمراہی میں۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّـهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ﴿٣١﴾

31 تو جب اس نے سنا ان کی چال کے بارے میں، تو اس نے ان کو بُلاوا بھیجا، اور ان کے لیے ایک محفل تیار کی، اور اس نے ان میں سے ہر ایک کو چھری دی، اور کہا: نکلو ان کے سامنے۔ تو جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے بڑا سمجھا، اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں، اور انہوں نے کہا: خدا نہ کریں ، یہ کوئی انسان نہیں، یہ تو ایک فرشتہ ہے، معزز۔

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ ﴿٣٢﴾

32 اس نے کہا: تو وہ ہے جس کے بارے میں تم مجھ پر الزام لگا رہی تھی، اور میں نے اسے اس کی جان سے پھسلانا چاہا لیکن یہ مضبوط رہا، اور اگر یہ نہیں کرے گا وہ جو میں اسے حکم دے رہی ہوں، تو یہ قید کردیا جائے گا، اور ہو جائے گا ذلیلوں میں سے۔

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ﴿٣٣﴾

33 اس نے کہا: میرے رب، قید مجھے زیادہ پیاری ہے اس سے جس کی طرح وہ مجھے بلا رہی ہیں، اور اگر آپ نے ان کی چال نہیں پھیری مجھ سے، تو میں ہو جاؤں گا ان کی طرف مائل ، اور ہو جاؤں گا لا علموں میں سے۔

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ﴿٣٤﴾

34 تو اس کے رب نے اسے جواب دیا، تو اس نے پھیر دی ان کی چال اس پر سے، وہ سننے والا، جاننے والا ہے،

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٣٥﴾

35 پھر انہیں دکھ گیا، اس کے بعد جب انہوں نے نشانیاں دیکھی، کہ وہ اسے کچھ وقت کے لیے قید کر دیں۔

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿٣٦﴾

36 اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن میں سے چڑیاں کھا رہی ہیں۔ بتاؤ ہمیں اس کا انجام، ہم دیکھتے ہیں تمہیں اچھا کرنے والوں میں سے۔

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّـهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ ﴿٣٧﴾

37 کہا اس نے: تم دونوں کے پاس کھانا نہیں آئے گا تمہارے کھانے کے لیے مگر یہ کہ میں تمہیں بتاتا ہوں اس کا انجام اس سے پہلے کہ وہ تم دونوں کے پاس آئے، وہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے، میں نے چھوڑ دیا ہے مذہب ان لوگوں کا جو خدا پر یقین نہیں کرتے، اور آخرت کے بارے میں انکار کرنے والے ہیں،

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّـهِ مِن شَىْءٍ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّـهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٣٨﴾

38 اور میں پیچھے چلا ہوں مذہب کے اپنے باپ دادا: ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے، ہمارے لیے نہیں ہے کہ ہم شریک کریں خدا کے ساتھ کسی چیز کوبھی، وہ ہے فضل میں سے خدا کا ہم پر، اور آدمیوں پر، اور لیکن زیادہ تر آدمی شکر نہیں کرتے،

يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّـهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ﴿٣٩﴾

39 اے میرے دونوں ساتھی قیدیوں، کیا الگ الگ ارباب بہتر ہیں یا خدا، ایک، سب پر طاقتور؟

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٤٠﴾

40 تم خدمت نہیں کرتے ان کے علاوہ مگر ناموں کی جو تم نے رکھ لیے ہیں، تم اور تمہارے باپ دادا نے، ان کے بارے میں خدا نے کوئی اختیار نہیں بھیجا، فیصلہ مگر خدا کے لیے ہے، وہ حکم دیتے ہیں کہ تم خدمت نہیں کرو مگر انہی کی، وہ سیدھا دین ہے، اور لیکن زیادہ تر آدمی نہیں جانتے،

يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًا وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ﴿٤١﴾

41 اے میرے ساتھی قیدیوں، جہاں تک تعلق ہے تم میں سے ایک کا، تو وہ اپنے رب کے لیے شراب نکالے گا، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے، تو اسے سولی پر چڑھا دیا جائے گا، تو کھائیں گی چڑیاں اس کے سر میں سے، طے ہوچکا ہے معاملہ جس کے بارے میں تم دونوں فیصلہ مانگتے ہو،

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ ﴿٤٢﴾

42 اور کہا اس نے اس سے جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ بچ جائے گا ان دونوں میں سے: یاد رکھنا مجھے اپنے رب کے پاس، تو شیطان نے اسےاپنے رب کی یاد بھلا دی، تو وہ رہا قید میں کچھ سال،

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَـٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ ﴿٤٣﴾

43 اور کہا بادشاہ نے: میں نے سات موٹی گائیں دیکھی، انہیں سات دبلی گائیں کھا رہی تھی،اور مکئی کی سات ہری بالیاں اور دوسری خشک، اے بڑے لوگوں: مجھے میرے خواب کے بارے میں مشورہ دو، اگر تم خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو۔

قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَـٰمِ بِعَـٰلِمِينَ ﴿٤٤﴾

44 انہوں نے کہا: الجھے ہوئے خواب، اور ہم نہیں جانتے خوابوں کے انجام کے بارے میں۔

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ ﴿٤٥﴾

45 اور کہا اس نے جو بچا لیا گیا تھا ان دونوں میں سے، اور یاد کیا ایک وقت کے بعد: میں تمہیں بتاتا ہوں اس کا انجام، تو بھیجو مجھے،

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٤٦﴾

46 یوسف،اے سچے، مشورہ دو ہمیں سات موٹی گایوں کے بارے میں، انہیں سات دبلی گائیں کھا رہی تھی، اور مکئی کی سات ہری بالیاں اور دوسری خشک، تاکہ میں شاید واپس جاؤں آ دمیوں کے پاس، تاکہ وہ شاید جان لیں۔

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ﴿٤٧﴾

47 اس نے کہا: تم سات سال تک کھیتی کرتے رہو جیسے تم کرتے ہو، تو جو تم کاٹو تو اسے اس کی بالیوں میں ہی چھوڑ دو، سوائے تھوڑا سا جس میں سے جو تم کھاؤ،

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ﴿٤٨﴾

48 پھر اس کے بعد آئیں گے سات سخت، وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کیا تھا، سوائے تھوڑا سا جسے تم محفوظ رکھنا،

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ﴿٤٩﴾

49 پھر ان کے بعد آئے گا ایک سال جس میں آدمیوں کے لیے بارش ہوگی، اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔

صفحہ 1 از 3 | کل 111 آیت / آیات